Monday, 25 March 2019

Jaun Elia Ghazal | Sad Poetry | Halat e hal k sabab

 حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی 
جون ایلیا


 Halat e hal k sabab - Jaun Elia
Jaun Elia Ghazal | Halat e hal k sabab


حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی 
شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی 

تیرا فراق جان جاں عیش تھا کیا مرے لیے 
یعنی ترے فراق میں خوب شراب پی گئی 

تیرے وصال کے لیے اپنے کمال کے لیے 
حالت دل کہ تھی خراب اور خراب کی گئی 

اس کی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ 
عمر گزار دیجیے عمر گزار دی گئی 

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک 
بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی 

بعد بھی تیرے جان جاں دل میں رہا عجب سماں 
یاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی

اس کے بدن کو دی نمود ہم نے سخن میں اور پھر 
اس کے بدن کے واسطے ایک قبا بھی سی گئی 

مینا بہ مینا مے بہ مے جام بہ جام جم بہ جم 
ناف پیالے کی ترے یاد عجب سہی گئی 

کہنی ہے مجھ کو ایک بات آپ سے یعنی آپ سے 
آپ کے شہر وصل میں لذت ہجر بھی گئی 

صحن خیال یار میں کی نہ بسر شب فراق 
جب سے وہ چاندنا گیا جب سے وہ چاندنی گئی

وڈیو دیکھنےکےلیےوڈیوپہ کلک کیجیے