کیا رخصت یار کی گھڑی تھی
احمد فراز
کیا رخصت یار کی گھڑی تھی
ہنستی ہوئی رات رو پڑی تھی
ہم خود ہی ہوئے تباہ ورنہ
دنیا کو ہماری کیا پڑی تھی
یہ زخم ہیں ان دنوں کی یادیں
جب آپ سے دوستی بڑی تھی
جاتے تو کدھر کو تیرے وحشی
زنجیر جنوں کڑی پڑی تھی
دریوزہ گرے حیات بن کر
دنیا تری راہ میں کھڑی تھی
غم تھے کہ فرازآندھیاں تھیں
دل تھا کہ فراز پنکھڑی تھی
وڈیودیکھنےکےلیےکلک کیجیے
احمد فراز
![]() |
| Kya rukhsat yaar ki ghari |
کیا رخصت یار کی گھڑی تھی
ہنستی ہوئی رات رو پڑی تھی
ہم خود ہی ہوئے تباہ ورنہ
دنیا کو ہماری کیا پڑی تھی
یہ زخم ہیں ان دنوں کی یادیں
جب آپ سے دوستی بڑی تھی
جاتے تو کدھر کو تیرے وحشی
زنجیر جنوں کڑی پڑی تھی
دریوزہ گرے حیات بن کر
دنیا تری راہ میں کھڑی تھی
غم تھے کہ فرازآندھیاں تھیں
دل تھا کہ فراز پنکھڑی تھی
وڈیودیکھنےکےلیےکلک کیجیے
